Get Alerts

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کا جوڈیشل کونسل کو خط، آئینی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے گئے

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کا جوڈیشل کونسل کو خط، آئینی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے گئے

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کونسل کو 17 اکتوبر کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے جوڈیشل کونسل کی آئینی حیثیت اور اس کے فیصلوں کی قانونی بنیاد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ججز کوڈ آف کنڈکٹ کے معاملے کو قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی میں غیر آئینی طور پر زیر بحث لایا گیا، حالانکہ یہ معاملہ خالصتاً سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ دونوں ججز نے اجلاس سے ایک روز قبل اپنے کمنٹس جمع کروائے تھے اور اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہو کر اپنا مؤقف پیش کیا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف زیر التوا کیس کی موجودگی میں ان کی جوڈیشل کونسل میں شمولیت پر سوالات اٹھتے ہیں اور کونسل کی آئینی حیثیت کے تعین کے بغیر اس کے فیصلوں کی قانونی حیثیت متنازعہ ہو سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں 13 اکتوبر کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کونسل کے اجلاس کو مؤخر کرنے یا اس کی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: