لاہور / ملتان : دریائے ستلج کے شدید زمینی کٹاؤ کے باعث بہاولنگر اور پاکپتن کے کئی علاقوں میں تباہی کا سلسلہ جاری ہے جہاں سیکڑوں مکانات دریا برد ہو چکے ہیں۔ جلالپور پیر والا میں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 2 خواتین اور ایک نوجوان جاں بحق ہو گئے جبکہ لیاقت پور میں پانی کا زور کم ہونے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں گھر واپس جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
پاکپتن کے گاؤں باقر کے قریب دریا کا رخ بدلنے سے درجنوں گھر پانی میں بہہ گئے ہیں۔ زمینی کٹاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مقامی لوگوں نے اپنے قیمتی سامان کو محفوظ بنانے کے لیے مکانوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہیوی مشینری کی مدد سے بند باندھنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔
ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا میں چک 81 ایم میں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے دو خواتین جاں بحق ہوئیں، جب کہ چک 66 ایم میں نوجوان کی موت واقع ہوئی۔ بہاولنگر کی بستی جانن والی اور گردونواح میں بھی دریائی کٹاؤ نے شدید تباہی مچائی، جہاں پچاس سے زائد گھر دریا برد ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق مزید پانچ سو سے زائد مکانات شدید خطرے میں ہیں، اور متاثرہ افراد نے کٹاؤ سے بچاؤ کے لیے اپنے گھر خود گرانا شروع کر دیے ہیں۔
منطقی طور پر متاثرہ علاقے میں مدارس، مساجد اور پرائمری اسکول بھی شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بہاول پور کے باقر پور میں سیلاب متاثرین نے انتظامیہ پر ریلیف کیمپ خالی کرانے کا الزام عائد کیا اور احتجاج کیا، تاہم ڈپٹی کمشنر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال بہتر ہونے پر متاثرین کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
احمد پور شرقیہ، اوچ شریف اور دیگر کئی علاقوں میں بھی مکانات اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چناب کے مختلف علاقوں میں مکانات منہدم ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین پانی میں ڈوب چکی ہے۔ رابطہ سڑکوں پر پانی اور گہرے شگافوں کے باعث مواصلات متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے متاثرین کو اپنے گھروں کو واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
منچن آباد میں بابا فرید پل کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں 80 ہزار کیوسک کا ریلا بہہ رہا ہے۔ موضع بونگہ اکبر، ماڑی نہال، بچیاں والی سمیت 15 دیہات میں سیلابی پانی نے زمینی راستے بند کر رکھے ہیں۔
دریائے چناب اور سندھ کے سیلابی ریلے لیاقت پور کے کئی علاقوں میں تباہی کی داستانیں چھوڑ گئے، جہاں متعدد مکانات اور فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے مگر رابطہ سڑکوں پر شدید نقصان کی وجہ سے سفر مشکل ہے۔
دریائے سندھ میں گڈو بیراج اور چشمہ بیراج پر پانی کی سطح میں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں سیلاب کی صورتحال نچلے درجے پر آ گئی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73 ہزار 651 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 888 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چشمہ بیراج پر بھی پانی کی آمد اور اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رابطہ سڑکوں کی فوری بحالی کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔