نیویارک : اقوامِ متحدہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی میں اضافے پر تشویش ہے۔
گزشتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو ایک خط میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے جارحیت کی تو ایران اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کی تمام تر ذمے داری امریکا پر عائد ہوگی۔
اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا "جیرالڈ فورڈ" لڑاکا طیاروں سے بھرا ہوا بحیرہ روم میں داخل ہو چکا ہے، اور پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر بھی لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا مقصد ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنانا ہوگا، اور امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔