اسلام آباد: پاکستان سمیت عالمی برادری کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس اہم ترین پیش رفت کا اعلان وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد کی جائے گی۔
دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا اور ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایران جمعہ سے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرے گا، جبکہ اقتصادی پابندیوں کے مستقل خاتمے کے لیے اگلے 60 روز تک مزید تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں بتایا کہ اس ڈیل کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ نے طویل اور اہم مذاکرات کی سہولت فراہم کی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پسِ پردہ سفارتی حکمتِ عملی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
اقوام متحدہ کے علاوہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، ترک صدر رجب طیب اردوان، اور یورپی ممالک (فرانس، جرمنی، اٹلی) نے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے مثبت اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔
امن کے اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آ گئیں۔ برینٹ کروڈ 3.8 فیصد کمی کے بعد 84.02 ڈالر اور امریکی خام تیل 4.1 فیصد گراوٹ کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔