میرپور: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آزاد کشمیر کے مستقبل کے فیصلے وہاں کے عوام کی مرضی سے ہونے چاہئیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا میرپور سے تین نسلوں کا تعلق ہے اور وہ یہاں آکر خود کو اپنے گھر میں محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات انتہائی اہم ہیں اور عوام کا فیصلہ آنے والے وقت کی سمت متعین کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی اور عوام کو حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ترقی کے دعوے کرتے ہیں لیکن انہیں چولستان، راجن پور اور وہاڑی کے مسائل بھی دیکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی کام کرنے تھے تو ماضی میں ان کی حکومتیں بھی موجود رہی ہیں۔
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے ماضی کے نعروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ گلگت کو لاہور بنانے کی بات کرتے ہیں، وہ اپنے دورِ حکومت میں یہ وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو قصور کو لاہور نہیں بنا سکے وہ گلگت کو لاہور کیسے بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے معاملات کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے، پنجاب یا سندھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو نمائندگی دی جانی چاہیے، تاہم کشمیر کے مستقبل کے فیصلوں میں کشمیری عوام کی رائے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کو عوام نے دو تہائی اکثریت دی تو آزاد کشمیر کے آئین میں اصلاحات لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی نمائندگی قومی سطح کے اداروں میں بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ملک کی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور مہنگائی عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے عالمی کشیدگی کے ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کیا۔
احتجاجی معاملات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے تحقیقات اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے تحفظات دور کیے جائیں، تاہم اس عمل میں عام عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی عوامی حمایت حاصل کرے گی اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیح بنائے گی۔