Get Alerts

حکومت نے ایف بی آر کو شک کی بنیاد پر گرفتاری کا اختیار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا

حکومت نے ایف بی آر کو شک کی بنیاد پر گرفتاری کا اختیار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو آمدنی چھپانے کے شک کی بنیاد پر سیاست دانوں، بیورو کریٹس، صحافیوں، صنعت کاروں اور تاجروں سمیت کسی بھی شخص کو صفائی کا موقع دیئے بغیر براہ راست گرفتاری کے اختیارات دینے کا فیصلہ مختلف حلقوں کے احتجاج پر واپس لے لیا ہے۔ 
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے مجوزہ ترامیم سے دست بردار ہونے کیلئے فنانس بل 2021ءکے ذریعے ٹیکس قوانین میں تجویز کردہ تمام شقیں واپس لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پارلیمینٹ سے منظوری کیلئے ترمیمی فنانس بل کے مسودے سے فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 203 اے میں ترمیم تجویز کی گئی ہے اور سیکشن 203 بی سمیت دیگر تمام شقوں اور ذیلی شقوں کو ختم کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں تجویز کی جانے والی ان ترامیم کے خلاف تمام کاروباری طبقوں کے علاوہ سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور ان اختیارات سے ملک کے کاروباری سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ حکومت نے بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں تجویز کردہ ترامیم میں ایف بی آر کو آمدنی چھپانے کے شبہ میں گرفتاریوں کے اختیارات دینے کی تجویز دی تھی جس کے مطابق آمدنی چھپانے کے شبہ میں گرفتار کئے جانے والے شخص کو 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ سپیشل جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
ٹیکس ماہرین اور کاروباری برادری کا کہنا تھا کہ اس قانون کے سیاسی مقاصد کیلئے غلط استعمال کیساتھ ساتھ ایف بی آر کی ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے صنعت کاروں اور تاجروں سمیت دوسرے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کیلئے غلط طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس سے ٹیکس دہندگان میں خوف و ہراس پھیلنے کا خطرہ ہے، اس کیساتھ ہی ایف بی آر کے افسران کی کرپشن بھی بڑھنے کا خطرہ ہے۔

ٹیگز: