لندن: برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے میں برطانیہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی ترجیح مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم کرنا ہے۔
برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران کو مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا جوہری پروگرام عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کے جوہری خطرے کو محدود کرنے کے لیے کارروائی کی، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یاد رہے کہ امریکا نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفہان—پر حملے کیے، جن میں بی ٹو بمبار طیاروں اور ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔
ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر ان حملوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔