اسلام آباد:سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کو شریعت کا علمبردار ظاہر کرنے والا شدت پسند گروہ "فتنۃ الخوارج" اپنے نظریاتی بیانیے میں ناکامی کے بعد اب کھلے عام مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو چکا ہے۔ بھارتی حمایت اور مالی معاونت کے باوجود یہ گروہ عوامی سطح پر اپنا اثر قائم رکھنے میں ناکام رہا اور اب بھتہ خوری اور مالی استحصال جیسے اقدامات پر اتر آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشت گرد گروہ نے معدنیات کے شعبے سے وابستہ افراد کو دھمکی آمیز خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کان کنی کے کاروبار پر پانچ فیصد "محفوظی فیس" کے نام پر بھتہ طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معدنیات کی ترسیل پر ہر ٹرک کے حساب سے پانچ ہزار روپے دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو متعلقہ افراد خود کسی بھی ممکنہ نقصان کے ذمہ دار ہوں گے۔دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس گروہ کا نظریاتی بیانیہ عوام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ہتھیار، دھمکیاں اور بھتہ خوری کو اپنا ذریعہ بنا لیا۔ ماہرین کے مطابق "فتنۃ الخوارج" اب ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکا ہے جو نہ صرف اسلام بلکہ ریاستِ پاکستان کے بھی خلاف کام کر رہا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس گروہ کی سرگرمیوں میں واضح طور پر بھارتی سرپرستی نظر آتی ہے، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور سیکیورٹی کے ماحول کو نقصان پہنچانا ہے۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کی کسی بھی شکل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گروہ کی مالی و عسکری سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ شعبوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔