راولپنڈی:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے بجٹ پر مشاورت کے لیے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو صوبائی حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دو ماہ بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس میں بجٹ اور دیگر اہم سیاسی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 سے 6 افراد پر مشتمل وفد کو قائد تحریک سے بجٹ کے لیے ملنے دیا جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں آئینی بالادستی کی جگہ طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔ "ڈنڈے کے زور پر ملک نہیں چلایا جا سکتا، ہمیں اپنے لیڈر سے مشاورت سے روکا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مالی طور پر مستحکم بجٹ تیار کیا ہے، اور صوبے کا بجٹ 250 ارب روپے سرپلس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملاقات نہ کروائی گئی تو ہم آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔ "ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری رہا کیا جائے تاکہ سیاسی عمل آگے بڑھ سکے۔"