کابل : افغانستان نے امریکہ کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ اپنا ایک انچ بھی امریکی فوج کو نہیں دے گا، خاص طور پر بگرام ایئربیس پر قبضے کے حوالے سے۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغان سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، چاہے امریکہ افغانستان کو تسلیم بھی کر لے۔
متقی نے امریکہ کی جانب سے بگرام ایئربیس واپس لینے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایئر بیس افغانستان کی خودمختاری کا حصہ ہے اور چین کے قبضے کے حوالے سے بھی گردش کرنے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر دھمکی دی تھی کہ اگر افغانستان نے بگرام ایئربیس واپس نہ کیا تو سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بگرام ایئربیس وہ جگہ ہے جو امریکہ نے تعمیر کی ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے، کیونکہ یہ ایئر بیس چین کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔
ٹرمپ نے برطانیہ کے دورے کے دوران بھی کہا تھا کہ امریکہ نے طالبان کو بگرام ایئر بیس مفت میں دے دیا تھا، مگر اب اسے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد امریکہ نے 20 سال تک زیر استعمال رہنے والا بگرام ایئر بیس افغان حکام کو سونپ دیا تھا۔