پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور اراکینِ اسمبلی کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے محاذِ جنگ سنبھال لیا ہے۔ حکومت کو درپیش چیلنجز اور پارٹی صفوں میں اتحاد کی بحالی کے لیے وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام ریجنز کے اراکین سے براہِ راست ملاقاتوں کا شیڈول طے کر لیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ کے معتمدِ خاص سہیل آفریدی نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا صوبے کے چاروں ریجنز کے اراکینِ اسمبلی سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اراکین کے تحفظات دور کرنا اور پارٹی کے اندر پائے جانے والے شدید اختلافات کو ختم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقاتیں کسی تاخیر کے بغیر رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ہی مکمل کی جائیں گی۔ ملاقاتوں میں ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی، انتظامی مسائل اور اراکین کے حلقوں کے دیگر دیرینہ مسائل کو زیرِ غور لایا جائے گا.
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا یہ اقدام پارٹی کے اندر 'فارورڈ بلاک' یا مزید گروہ بندی کو روکنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اراکینِ اسمبلی کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی پر مسلسل شکایات سامنے آ رہی تھیں، جس نے اب ایک سنگین اندرونی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ان ملاقاتوں کی کامیابی صوبائی حکومت کے مستقبل کے استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔