نئی دہلی : سفارتی محاذ پر مسلسل ناکامیوں اور عالمی تنہائی کا شکار بھارت نے امریکی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی حساس فوجی تنصیبات تک کے دروازے واشنگٹن کے لیے کھول دیے ہیں۔ حالیہ "معرکہ حق" میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارتی سفارت کاری مکمل طور پر زمیں بوس ہو چکی ہے، جس کا ملبہ چھپانے کے لیے اب امریکی بیساکھیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مودی سرکار نے امریکی سفیر کو حساس فوجی تنصیبات تک رسائی فراہم کر دی ہے، جسے ماہرین بھارت کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور دفاعی کمزوری کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کے باوجود واشنگٹن اور دہلی کے تعلقات میں واضح سرد مہری برقرار ہے اور امریکہ کی جانب سے بھارت کے لیے وہ گرمجوشی نظر نہیں آ رہی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا (گودی میڈیا) امریکی وفد کے دورے کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ اس بیانیے کے پیچھے چھپے اصل حقائق درج ذیل ہیں.
حالیہ اے آئی (AI) سمٹ کی عبرتناک ناکامی سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے اس دورے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، گودی میڈیا محض عوامی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے اور امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے 'آپٹکس' (ظاہری نمائش) کا سہارا لے رہا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت اس وقت ایک ایسی بند گلی میں ہے جہاں اسے اپنی علاقائی پالیسیوں اور دفاعی محاذ پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ امریکی سفیر کا دورہ محض ایک سفارتی رسمی کارروائی ہے، جسے بھارتی میڈیا ایک "تزویراتی بریک تھرو" ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔