کراچی :کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی کئی ماہ پرانی لاش برآمد ہونے کے بعد ان کی موت سے جڑا ایک ڈیجیٹل معمہ سامنے آ گیا، جس نے تفتیشی حکام کو الجھن میں ڈال دیا۔
اداکارہ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر پروفائل تصویر (ڈی پی) اور "لاسٹ سین" کے اچانک غائب ہونے پر پولیس کئی دنوں تک یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ موت کے بعد یہ تبدیلیاں کیسے ممکن ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق، 8 جولائی کو حمیرا کی لاش ان کے گھر سے ملی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ان کا انتقال اکتوبر 2024 میں ہوا، جب کہ آخری بار ان کا فون 7 اکتوبر کی شام 5 بجے استعمال ہوتے دیکھا گیا۔
اداکارہ کے قریبی ساتھی اور اسٹائلسٹ دانش مقصود نے دعویٰ کیا کہ 5 فروری 2025 کے بعد اداکارہ کے واٹس ایپ پر کچھ سرگرمی دیکھی گئی، جس میں ڈی پی اور لاسٹ سین کو ہٹا دیا گیا۔
پولیس کو شبہ تھا کہ شاید کسی نے اداکارہ کا فون استعمال کیا ہو یا واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر کے ڈیجیٹل شواہد کو مٹایا ہو۔ تاہم، واٹس ایپ کی پالیسی کے مطابق اگر کوئی صارف 120 دن تک غیر فعال رہے، یعنی اس کا فون انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہو، تو اس کا اکاؤنٹ خودکار طور پر حذف ہو سکتا ہے، جس سے ڈی پی اور لاسٹ سین خود بخود غائب ہو جاتے ہیں۔
یہ پہلو تفتیشی عمل کے دوران طویل بحث کا باعث بنا، کیونکہ تفتیشی ٹیم کو اس ٹیکنیکل پہلو کا ادراک نہ تھا۔ یہی لاعلمی تحقیقات میں تاخیر اور غیر یقینی کی وجہ بنی۔
اداکارہ کی موت کے حوالے سے یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ کرایہ داری کے تنازع کا شکار تھیں۔ پولیس نے مالک مکان کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے اور دیگر دستاویزات کی چھان بین بھی شروع کر دی ہے۔
اداکارہ حمیرا اصغر کی موت صرف ایک المیہ نہیں بلکہ ایک سبق بھی ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی درست تفہیم کے بغیر جدید تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی۔ تفتیشی اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کی تربیت اب وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔