لاہور : پاکستان میں آج قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس دوران پولنگ سٹیشنوں کی نگرانی کے لیے ہیڈکوارٹرز میں کنٹرول روم قائم کر دیے ہیں۔ الیکشن کمشنر پنجاب نے واضح کیا کہ تمام پولنگ سٹیشنوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ شہری بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولنگ سٹیشنوں پر آئیں اور اپنا ووٹ ڈالیں، خاص طور پر معذور افراد، حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور خواجہ سراؤں کو ترجیحی بنیاد پر ووٹ ڈلوانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولنگ سٹیشنوں پر موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، اور شہریوں کو ووٹ کی رازداری برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بیلٹ پیپر کی تصویر لینے سے گریز کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے صوبہ بھر میں پولنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کیے ہیں، جن کی نگرانی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہارون شنواری کر رہے ہیں۔ اس سے قبل یہ بھی اطلاع دی گئی تھی کہ پولنگ سٹیشنوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
یہ ضمنی انتخابات پنجاب کی سیاسی صورتحال کے لیے بہت اہم ہیں، کیونکہ مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی جیسے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کی نظریں ان حلقوں پر جمی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر لاہور کے حلقے میں ہونے والے مقابلے کو اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ مسلم لیگ ن حکومت میں آنے کے بعد لاہور میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بحال کر پائی ہے یا نہیں۔ پی ٹی آئی بھی اس الیکشن میں اپنی ساکھ کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ وہ ابھی تک انتخابی نشان سے محروم ہے۔