تل ابیب : اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے لیے پیش کردہ متنازعہ بل کے پہلے مرحلے میں منظوری دے دی ہے۔ بل کے حق میں 25 اور مخالفت میں 24 ووٹ پڑے، جس کے بعد اسے مزید غور کے لیے خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
اس بل کی منظوری پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کی آبادکاری اور توسیع پسندانہ عزائم کی شدید مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے انضمام کی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ قطر نے بھی اس اقدام کو فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے اسرائیل کو توسیع پسندانہ منصوبے سے روکنے کی اپیل کرتے ہیں۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل کے دورے پر ہیں اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے کے انضمام اور آباد کاروں کے تشدد کے اقدامات غزہ امن معاہدے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی تھی اور اسرائیل کو اس طرح کے اقدام سے روکنے کی ضرورت ہے۔