Get Alerts

پاکستان سمیت 15 ممالک نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا، غیرقانونی بل کی شدید مذمت

پاکستان سمیت 15 ممالک نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا، غیرقانونی بل کی شدید مذمت

اسلام آباد/ریاض/انقرہ: پاکستان، سعودی عرب، ترکی، او آئی سی اور عرب لیگ سمیت 17 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسیٹ) سے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیرقانونی بل کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جس میں 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس کی قانونی حیثیت میں تبدیلی کے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی گئی تھی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی قبضے، آبادکاری اور انضمام کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، بیان میں عالمی عدالت انصاف کی غزہ میں انسانی امداد کے حوالے سے دی گئی رائے کا خیرمقدم کیا گیا اور اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات سے باز رہے۔

اسلامی ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی اہمیت پر زور دیا، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، اور اسے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے واحد حل قرار دیا۔

دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے اقدامات کو جواز نہ دینے کی بات کی اور کہا کہ دنیا کو مغربی کنارے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے اس بیان پر عالمی سطح پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو فلسطینی حقوق کے حامی ہیں۔

ٹیگز: