اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے ملکی صنعت اور زراعت کی ترقی کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے "روشن معیشت بجلی پیکیج" کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیکیج صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے رعایتی نرخوں پر اضافی بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جو نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک نافذ العمل ہوگا۔
وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعلان کاروباری برادری کے وفد اور ماہرین کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ اس پیکیج کے تحت، صنعتی شعبے کو 34 روپے فی یونٹ کی بجائے 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ اور زرعی شعبے کو 38 روپے فی یونٹ کی بجائے اسی رعایتی نرخ پر بجلی فراہم کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ "یہ پیکیج نہ صرف صنعت و زراعت کی ترقی کو فروغ دے گا، بلکہ معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔" انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ اس پیکیج کا بوجھ نہ تو گھریلو صارفین پر ڈالا جائے گا اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے پر۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گزشتہ برس موسمِ سرما میں دیے گئے بجلی پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی شعبے نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی، جس سے نہ صرف صنعتوں کا پہیہ چلا بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوا اور ہزاروں افراد کو روزگار ملا۔
شہباز شریف نے حکومت کی معاشی ٹیم اور کاروباری برادری کی تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں معاشی بحران سے معاشی استحکام تک کا سفر کٹھن ضرور تھا، لیکن اب ہمارا اگلا ہدف پاکستان کی معاشی خودمختاری ہے، جو انشاء اللہ جلد حاصل کر لیں گے۔"
وزیرِ اعظم نے وزیرِ بجلی سردار اویس لغاری اور ان کی ٹیم کی محنت کو سراہا اور کہا کہ ملکی صنعتوں اور زراعت کی ترقی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کاروباری آسانیوں اور خطے میں مسابقت بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔