Get Alerts

پاکستان میں کب کونسی جماعت پابندی کا شکار ہوئی،الیکشن کمیشن کے مطابق طریقہ کیا ہے؟

پاکستان میں کب کونسی جماعت پابندی کا شکار ہوئی،الیکشن کمیشن کے مطابق طریقہ کیا ہے؟

وفاقی کابینہ نےٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی ۔ ضابطے کے تحت کارروائی کے لیے اس معاملے کو وزارت داخلہ کو بھجوایا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی۔آئین کے تحت وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی سرگرمیوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ کی وجہ سے اس پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ 
قانونی طریقہ کار کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ اس منظوری کے بعد وزارت داخلہ پارٹی پر پابندی کا نوٹی فیکیشن جاری کرے گی۔ اس نوٹیفکیشن کی روشنی میں الیکشن کمیشن پارٹی کو ڈی لسٹ کرتے ہوئے اس کی رجسٹریشن ختم کر دے گا۔ 
آئینِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت پر پابندی عائد کر سکتی ہے اگر اس کی سرگرمیاں ریاست کی سلامتی، امنِ عامہ یا آئین کے منافی ہوں۔
یاد رہے کہ ٹی ایل پی نے 2018 میں انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا اور اعدادوشمار کے مطابق ان کے امیدوار تیسری پوزیشن پر تھے جبکہ سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پر تحریک لبیک کو کامیابی بھی ملی تھی۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا قیام 2015 میں ہوا۔ اس کے بانی مولانا خادم حسین رضوی تھے ، 26 جولائی 2017 کو یہ جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہوئی۔ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ سعد رضوی نے جماعت کی قیادت سنبھالی۔2021 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا اعلان کیاتھا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے 14 اپریل 2021 کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ تاہم بعد میں حکومت کے ساتھ معاملات طے پانے کے بعد 7 نومبر 2021 کو عمران خان کی حکومت نے تحریک لبیک سے پابندی ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق اگر پارٹی پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری ہونے سے پہلے ارکان سپیکر کو تحریری طور پر اپنی پارٹی سے وابستگی ختم کرکے آزاد حیثیت میں رہنے کے بارے میں آگاہ کر دیں تو ان کی رکنیت ختم نہیں ہوتی۔ دوسری صورت میں نہ صرف ان کی رکنیت ختم ہوتی ہے بلکہ وہ ضمنی الیکشن میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کے اہل بھی نہیں رہتے۔ سیاسی وآئینی ماہرین کے نزدیک  اگر پابندی نیشنل ایکشن پلان کے نکات کو پیش نظر رکھ کر لگائی گئی ہے اور اگر اس پابندی کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عمل کیا جائے تو یقینا اس سے انتہا پسندی کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان میں ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں اور قوانین میں اس کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔ کسی بھی جماعت پر پابندی اس صورت میں لگتی ہے  اگر کسی سیاسی جماعت پر ملک میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام ہو یا خلاف قانون کام کرتی ہو تو وفاقی کابینہ اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رپورٹ طلب کرتی ہے۔
 وفاقی حکومت سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں پر درج دہشت گردی کے کیسز کا جائزہ لیتی ہے اور شواہد کی روشنی میں تفصیلی رپورٹ یعنی سیاسی جماعت پر پابندی کے لیے چارج شیٹ مرتب کرنا ہوتی ہے۔آئینی وقانونی ماہرین کے مطابق اگر وفاقی کابینہ کو لگتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو پھر کابینہ پابندی کی منظوری دیتی ہے، یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی  اٹھایاجا سکتا ہے۔ دونوں ایوانوں سے اس پر قراردادیں پاس  ہوتی ہیں کہ یہ دہشت گرد جماعت ہے، لہذا اس پر پابندی ہونی چاہیے۔
پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر پابندی جولائی 1954 میں لگی اس وقت کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر وزیر اعظم لیاقت علی خان کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگااوراس  کے بعد پابندی عائد کی گئی۔ 
تاریخ  پر نظردوڑائیں تو ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام کے تحت نیشنل عوامی پارٹی کو دو مرتبہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی بار 26 نومبر 1971 کو صدر یحییٰ خان جبکہ دوسری بار 10 فروری 1975 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس پر پابندی عائد کی تھی۔ اس پارٹی کی بنیاد 1957 میں ڈھاکہ میں مولانا عبدالحامد خان بھاشانی نے رکھی تھی ۔پاکستان میں متعدد مذہبی سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور ان کے تحت کام کرنے والے فلاحی اداروں پر پابندی عائد کی  جاچکی ہے۔ ان میں سے بعض ایسی جماعتیں بھی ہیں جو انتخابی نشان رکھتے ہوئے ماضی میں انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہیں اور ان کے ارکان ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بھی رہے ہیں لیکن ان پر پابندی عائد کردی گئی۔
امرواقع یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت اگر پابندی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مؤثر طریقے سے لاگو کی جائے تو اس سے دہشت گردی کے رجحانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔تاہم، ماضی میں اکثر پابندیاں عارضی یا سیاسی نوعیت کی رہی ہیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

ٹیگز: