Get Alerts

ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب: عالمی امن، معیشت اور اقوام متحدہ پر کڑی تنقید

ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب: عالمی امن، معیشت اور اقوام متحدہ پر کڑی تنقید

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور عالمی ادارے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بغیر ٹیلی پرامپٹر کے خطاب کر رہے ہیں کیونکہ ٹیلی پرامپٹر کام نہیں کر رہا تھا، تاہم انہیں جنرل اسمبلی میں خطاب کر کے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال امریکا کی حالت خراب تھی مگر ان کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ٹرمپ نے معیشت کی مضبوطی، مہنگائی پر قابو پانے اور مضبوط فوج و دوستوں کی حامل امریکا کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اپنی "گولڈن ایج" سے گزر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے حوالے سے بتایا کہ ان کی قیادت میں گزشتہ سات ماہ میں سات جنگیں ختم کرائی گئیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی جنگ بندی کرائی گئی جبکہ لاکھوں جانیں محفوظ کی گئیں۔

اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے نے جنگیں روکنے میں کوئی مدد نہیں کی اور کبھی ان کے اقدامات پر تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو غیر قانونی تارکین وطن کو سہولتیں فراہم کرنے کا الزام بھی دیا۔

یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے روس، چین اور بھارت کو جنگ کے سہولت کار قرار دیا اور کہا کہ وہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے یورپی ممالک اور نیٹو کو روس سے تیل اور گیس خریدنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے ایران کو دہشت گردی پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا۔ مزید برآں، حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو فوراً رہا کرے اور جنگ بندی کرے۔

صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق پر بھی تشویش ظاہر کی اور ان کی تیاری روکنے پر زور دیا۔ لندن کے میئر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لندن جانا نہیں چاہتے۔

ٹیگز: