جدہ: سعودی عرب دوسرے ممالک کے باشندوں سمیت اب تک لاکھوں پاکستانیوں کو اپنی سر زمین سے نکا ل چکا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت اپنی معیشت کو تیل سے دیگر ذرائع آمدن پر منتقل کرنے کے پروگرام پر عمل در آمد کر رہی ہے۔
اس پروگرام کے تحت سعودی حکومت غیرملکی ورکرز کو کئی شعبوں سے بے دخل کر رہی ہے اور کئی سیکٹرز میں ان کے نوکری کرنے پر پابندی عائد کر رہی ہے جس سے لگ رہا تھا کہ وہ بتدریج غیرملکیوں کو نکال باہر کرے گی اور کم از کم تمام اعلیٰ نوکریاں صرف سعودی باشندوں کو دے گی لیکن اب سعودی عرب میں کام کرنے والے غیرملکیوں کی اصل تعداد سامنے آئی ہے جو اتنی زیادہ ہے کہ اگر سعودی حکومت انہیں ملک سے نکالے گی تو اس کی معیشت ہی بیٹھ جائے گی۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں 1کروڑ 8لاکھ50ہزار 192غیرملکی کام کر رہے ہیں جبکہ نوکریوں پر موجود سعودی باشندوں کی تعدادصرف 30لاکھ 38ہزار 945ہے۔
رپورٹ کے مطابق غیرملکی ورکرز میں 30لاکھ بھارتی، 25لاکھ پاکستانی، 22لاکھ مصری، 14لاکھ یمنی اور12لاکھ بنگالی شامل ہیں۔ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باعث معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد سے اب تک سعودی عرب سے لاکھوں پاکستانی واپس آ چکے ہیں لیکن ان اعدادوشمار کے مطابق اب بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں کا م کررہے