Get Alerts

غذر میں برفانی پہاڑ کے ٹکڑے گرنے سے بنی جھیل کی سطح میں 8 فٹ تک کمی، نشیبی علاقوں کو خطرہ، متعدد سکول اور ہوٹل بند

غذر میں برفانی پہاڑ کے ٹکڑے گرنے سے بنی جھیل کی سطح میں 8 فٹ تک کمی، نشیبی علاقوں کو خطرہ، متعدد سکول اور ہوٹل بند

گلگت : گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاؤں تالی داس میں برفانی پہاڑ کے ٹکڑے گرنے سے بننے والی 8 کلومیٹر طویل جھیل کے پانی میں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم جھیل کا بند ٹوٹ جانے سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

محکمہ اطلاعات کے افسر منیر اے جوہر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ تین روز قبل تالی داس میں برفانی جھیل پھٹنے سے شدید سیلابی ریلا آیا تھا، جس کے ملبے نے دریا کے بہاؤ کو روک کر ایک عارضی جھیل بنا دی تھی۔ جھیل کے پانی کے اخراج سے اس کی سطح میں 8 فٹ تک کمی آئی ہے۔

محکمہ اطلاعات کے مطابق، جھیل کا بند ٹوٹنے کے باعث ممکنہ سیلابی خطرے کے پیش نظر گلگت کے حدود میں واقع متعدد ہوٹلوں کو سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ دریائے گلگت کے کناروں پر آباد کئی گھرانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، محکمہ تعلیم نے بھی خطرے کے پیش نظر فوری اقدام اٹھاتے ہوئے دریائے گلگت کے کنارے واقع 8 اسکولوں کو تاحکم ثانی بند کر دیا ہے تاکہ بچوں کی جان و مال کو محفوظ رکھا جا سکے۔

ادھر گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور تیز ہواؤں نے تباہی مچائی ہے۔ تھلپن دیامر میں گزشتہ رات تیز ہواؤں اور بارش کے باعث 3 افراد زخمی ہو گئے۔ استور کے علاقے گدائے میں سیلابی صورتحال کے باعث 7 گھر متاثر ہوئے، جبکہ مشکن استور میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس سے مزید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

انتظامیہ کی اپیل: عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

ٹیگز: