Get Alerts

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

ڈھاکہ :  پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ڈھاکہ میں ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران ہوئی، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور بنگلادیش کے مشیر برائے خارجہ امور محمد توحید حسین شریک ہوئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاروں اور حکومتی اہلکاروں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس سے سرکاری سطح پر آمد و رفت میں آسانی پیدا ہو گی۔

اس کے علاوہ انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلادیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے درمیان تحقیق و پالیسی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

دونوں ممالک کے درمیان ٹریڈ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور بنگلادیش سنگباد سنگستھا کے مابین میڈیا تعاون، اور فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان تربیتی شراکت داری سے متعلق مفاہمت بھی طے پائی۔

تقریب سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے بنگلادیشی مشیر خارجہ محمد توحید حسین اور مشیر تجارت بشیر الدین سے وفود کی سطح پر ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ سیاسی، اقتصادی و تجارتی تعاون، علاقائی صورتحال، اور بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی روابط، ثقافتی و تعلیمی تبادلے، استعداد کار میں اضافے، اور انسانی بنیادوں پر تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سارک کی بحالی، مسئلہ فلسطین اور روہنگیا مسلمانوں کے بحران پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزارت خارجہ کے مطابق یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

یاد رہے کہ سینیٹر اسحاق ڈار 13 سال بعد کسی بھی پاکستانی وزیر خارجہ کے پہلے سرکاری دورے پر گزشتہ روز ڈھاکا پہنچے۔ اس سے قبل نومبر 2012 میں اس وقت کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے مختصر دورہ کیا تھا۔

ٹیگز: