اسلام آباد/کراچی : صدر مملکت آصف علی زرداری نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں غیر معمولی تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو کھری کھری سنا دیں۔ صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کراچی کی سڑکیں اسلام آباد اور لاہور جیسی ہونی چاہئیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے صوبائی و شہری حکومت کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
صدر مملکت کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، جس میں صدر زرداری انتطامیہ کی سست روی پر برس پڑے۔ صدر زرداری نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک انڈر پاس تین ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے، لیکن کراچی میں ایک سال گزرنے کے باوجود کام ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔
صدر نے مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب کو مشورہ دیا کہ وہ محسن نقوی سے رابطہ کریں اور ان سے سیکھیں کہ منصوبوں کو ریکارڈ مدت میں کیسے مکمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "صوبائی اور شہری حکومت محسن نقوی سے مشورہ کر لیں کہ کام کیسے کرتے ہیں۔
صدر مملکت نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کی ابتر صورتحال پر مزید سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہر کی سڑکوں کے معیار کو بہتر بنا کر انہیں اسلام آباد اور لاہور کی طرز پر ہموار اور خوبصورت بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق، صدر نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو وارننگ دی ہے کہ اگر تین ماہ کے اندر کارکردگی میں واضح بہتری نظر نہ آئی اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز نہ ہوئی تو سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔