Get Alerts

عرب ملک کی ایرانی صدر کو بڑی پیشکش

 عرب ملک کی ایرانی صدر کو بڑی پیشکش

یرانی پاسداران انقلاب کے سابق رکن اور تجزیہ نگار حسن عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ امیر قطر نے ایرانی صدر سے کہا ہے کہ اگر وہ امریکا سے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ نہ لے تو ان کا ملک ایران کو تین ارب ڈالرز اداکرے گا۔عباسی کے مطابق امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی نے یہ پیشکش گزشتہ دنوں اس وقت کی جب وہ ایران کے دورے پر تہران آئے ہوئے تھے۔

العربیہ اردو کے مطابق بوشہر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسن عباسی نے مزید کہا کہ امیر قطرہمیں سلیمانی کا بدلہ نہ لینے کیلئے تین ارب ڈالر دینے آئے تھے۔ انہوں نے کہاقطری امیر ہمارے ہاں کیوں آئے تھے؟ وہ اس لیے آئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے انہیں جو میزائل (امریکا کی طرف سے)فروخت کیے گئے ہیں وہ بے کار ہیں۔

نے کہا کہ ایران کو قاسم سلیمانی اور دیگر کمانڈروں کے قتل کا ہرصورت میں بدلہ لینا ہے۔ اس کے لیے کسی ملک کی طرف سے لالچ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔حسن عباسی نے مزید کہاچونکہ خطے میں امریکی فوج کی کمان قطر میں ہے اور اس کی قیادت فور اسٹار جنرل میکنزی کررہا ہے۔ وہ دوحا میں بیٹھ کر قاسم سلیمانی کے خلاف آپریشن کی کمان کررہا تھا۔ قطر کو اندازہ ہے کہ اگر ایران نے قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کی ٹھانی تو دوحا کے لیے بڑی تباہی آئے گی۔انہوں نے کہا ایران کو قاسم سلیمانی اور دیگر کمانڈروں کے قتل کا ہرصورت میں بدلہ لینا ہے۔ اس کے لیے کسی ملک کی طرف سے لالچ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ الجھن کا شکار ہوکر معذرت کیلئے آئے تھے۔ کیونکہ سلیمانی کو قتل کرنے والا طیارہ قطری علاقے سے بھیجا گیا تھا۔ اس معذرت کے ساتھ قطر نے ایران کو پیش کش کہ وہ یوکرینی ہوائی جہاز کے حادثے میں مارے جانے والے لوگوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کی مدد ایران کو تین ارب ڈالر ادا کرنے کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین کا ایک مسافربردار جہاز 8 جنوری کوتہران میں گر کرتباہ ہوگیا تھا۔ بعد ازاں ایران نے تسلیم کیا تھا کہ یہ جہاز انسانی غلطی سے چلنے والے میزائل کے نتیجے میں حادثے کاشکار ہوا۔اس میں عملے سمیت 176 افراد سوار تھے جو سب لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ حادثہ ٹھیک اسی روز ہوا جب ایران نے عراق میں امریکی فوج کے دو اڈوں کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا تھا۔