Get Alerts

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب گامزن، مستحق خواتین کو مزید سہولت ملے گی: روبینہ خالد

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب گامزن، مستحق خواتین کو مزید سہولت ملے گی: روبینہ خالد

چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا پشاور میں بینظیر نشوونما سہولتی مرکز کا دورہ، ماں اور بچے کی صحت و غذائیت کی سہولیات کا جائزہ

پشاور: چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے پشاور کے مولوی امیر شاہ میموریل ہسپتال میں قائم بینظیر نشوونما سہولتی مرکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور کم عمر بچوں کو فراہم کی جانے والی صحت و غذائیت کی سہولیات کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام  کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ چیئرپرسن کو مرکز میں خواتین مستحقین کی رجسٹریشن، اینتھروپومیٹری، سماجی آگاہی، غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی اور دیگر سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے مرکز میں موجود مستحق خواتین سے ملاقات کی اور پروگرام سے متعلق ان کی آرا بھی معلوم کیں۔ انہوں نے ہسپتال میں قائم نیونیٹل سٹیبلائزیشن سینٹر کا دورہ کرتے ہوئے نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے لیے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کا مقصد حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور دو سال تک کے بچوں کی بہتر صحت اور غذائیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سماجی تحفظ کے وژن کا عملی مظہر ہے، جس سے آج ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 17 سال کی مسلسل محنت کے بعد عوام کے اعتماد کا مضبوط ادارہ بن چکا ہے۔ میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی سے متعلق کسی بھی منفی خبر یا شکایت کو نشر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کی جائے، کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے نظام کے حوالے سے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر رہا ہے تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو اور مستحق خواتین کو رقوم کے حصول میں آسانی فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کی ڈیجیٹل سم صرف مجاز دفاتر سے مفت جاری اور ایکٹیویٹ کی جا رہی ہے، جو مستحق خواتین کے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹ سے منسلک ہوگی۔ اس نظام کے ذریعے خواتین کو رقم کی منتقلی اور وصولی کے بعد تصدیقی پیغامات موصول ہوں گے۔

چیئرپرسن نے مزید کہا کہ آئندہ قسط سے انٹرآپریبلٹی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق خواتین کسی مخصوص ادائیگی مرکز کی پابند نہیں رہیں گی بلکہ قریبی مجاز ریٹیلر یا بینکنگ ایجنٹ سے رقم وصول کر سکیں گی۔

انہوں نے فراڈ اور جعلسازی کے خلاف کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی کا نام استعمال کرکے عوام کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مستحق خواتین سے اپیل کی کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا دھوکے کی صورت میں فوری طور پر بی آئی ایس پی کو اطلاع دیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے واضح کیا کہ کسی فرد یا اہلکار کو مستحق خواتین کی مالی امداد بند یا جاری کرنے کا اختیار نہیں، تمام ادائیگیاں کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت کی جاتی ہیں۔

ٹیگز: