لندن/واشنگٹن: برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے خطرے میں اضافہ محسوس کرتے ہوئے امریکہ سے فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مداخلت کی درخواست کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب ایران نے قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر قطر کے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
قطری قیادت نے اس درخواست پر عمل کرتے ہوئے ایرانی حکام سے رابطہ کیا، اور چند گھنٹوں کے اندر تہران نے امریکی تجویز پر جنگ بندی کی اصولی منظوری دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کو خدشہ تھا کہ ایران کسی بھی وقت بھرپور جوابی کارروائی کر سکتا ہے، اسی لیے اس نے واشنگٹن سے فوری سفارتی مداخلت کی اپیل کی۔