لاہور : پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار اور پنجابی سینما کے بے تاج بادشاہ سلطان راہی کا آج 87واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔
24 جون 1938ء کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے سہارنپور میں پیدا ہونے والے سلطان راہی نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز بطور ایکسٹرا اداکار کیا، تاہم ان کی اصل شناخت 1979ء میں ریلیز ہونے والی فلم وحشی جٹ سے بنی، جس کے بعد انہوں نے "مولا جٹ" میں یادگار کردار ادا کیا اور فلمی دنیا پر راج کرنا شروع کیا۔
اپنی دبنگ آواز، پراثر ڈائیلاگز اور جذباتی اداکاری سے لاکھوں دلوں کو جیتنے والے سلطان راہی نے تقریباً 703 پنجابی اور 100 اردو فلموں میں کام کیا، اور 160 سے زائد ایوارڈز حاصل کیے۔ ان کی مقبول فلموں میں مولا جٹ، شیر خان، وحشی جٹ، چن وریام، سالا صاحب اور باغی جٹ شامل ہیں۔
احمد ندیم قاسمی کے افسانے "گنڈاسہ" پر مبنی فلموں نے سلطان راہی کو وہ مقام عطا کیا کہ انہیں دنیا بھر میں "پاکستان کا کلنٹ ایسٹ وڈ" کہا جانے لگا۔ ان کی اور مصطفی قریشی کی جوڑی پنجابی سینما کی پہچان بن گئی، جبکہ اداکاراؤں آسیہ، نادرہ اور انجمن کے ساتھ ان کے فلمی اشتراک کو بھی بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔
سلطان راہی کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کے فلمی ڈائیلاگز عوامی زبان کا حصہ بن گئے۔ "نواں آیا اے سوہنیا" جیسے مکالمات آج بھی سننے والوں کو جوش و جذبے سے بھر دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے 9 جنوری 1996ء کو گوجرانوالہ بائی پاس کے قریب فائرنگ کے ایک المناک واقعے میں سلطان راہی کو قتل کر دیا گیا۔ ان کے انتقال کو فلم انڈسٹری کے زوال کا آغاز قرار دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی سینما طویل عرصے تک بحران کا شکار رہا۔
آج سلطان راہی کی 87ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور فنکار برادری ان کی فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔ ان کا نام اور کام آنے والی نسلوں کو فن کے جذبے، محنت اور لگن کا درس دیتا رہے گا۔