انقرہ : ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران نہایت محتاط اور دانشمندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ ہمسایہ اور برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکی کسی بھی سازش یا دباؤ کا شکار نہیں ہوگا اور وہ اس کشیدہ صورتحال میں خود کو جنگ کے دائرے سے دور رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع دراصل اسرائیل کی جنگ ہے، تاہم اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نیتن یاہو کی بقا کی لڑائی ہے، لیکن اس کا بوجھ عالمی سطح پر انسانیت اٹھا رہی ہے۔
صدر اردوان نے مطالبہ کیا کہ خطے کے امن اور انسانی مفاد کے لیے نیتن یاہو کی قیادت میں جاری تشدد کو فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ممالک کو اس معاملے پر جرات مندانہ اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے سخت اور غیر لچکدار مؤقف سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی ایران میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق کشیدگی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے اثرات ترکی کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، تاہم حکومت اس نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔