پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں کے حملے میں تین حملہ آور مارے گئے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، دہشت گردوں کی شناخت ہو گئی ہے اور ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں حملہ آور افغان شہری تھے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں میں سے ایک خودکش حملہ آور تھا جس نے سنہری مسجد روڈ کے قریب ایف سی ہیڈکوارٹرز کے مرکزی گیٹ پر پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے، تاہم گیٹ کو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، دھماکے کے فوراً بعد دو مزید حملہ آور شلوار قمیض پہنے ہوئے سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہوئے۔ دونوں دہشت گردوں کے پاس رائفلز اور ہینڈ گرینیڈ بھی تھے۔ حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کے بعد فائرنگ شروع کر دی، تاہم جوابی فائرنگ میں دونوں دہشت گرد مارے گئے۔ یہ واقعہ مرکزی گیٹ سے 30 سے 40 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔
تحقیقات کے مطابق، حملہ آوروں کا مقصد ایف سی ہیڈکوارٹرز میں لوگوں کو یرغمال بنانا تھا، جہاں اعلیٰ افسران اور بڑی تعداد میں اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ اس وقت ایف سی ہیڈکوارٹرز میں پریڈ بھی جاری تھی، لیکن سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے باعث حملہ ناکام ہو گیا اور دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر کلیئر کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حملے کے بعد پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔