اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بھارت کو بھرپور جواب دیا گیا، اور واضح کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جو خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے واہگہ بارڈر پر آمدورفت بند کر دی ہے، بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بھی بند کر دی گئی ہے، اور سارک ویزہ اسکیم کے تحت بھارتی شہریوں کے تمام ویزے معطل کر دیے گئے ہیں، تاہم سکھ یاتریوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں ترکی، متحدہ عرب امارات، روانڈا، افغانستان، ازبکستان اور ایران کے ساتھ اہم ملاقاتیں اور رابطے کیے ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔