Get Alerts

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے پر دریائے ستلج میں شدید سیلاب، کئی علاقے زیرِ آب، ہزاروں افراد متاثر

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے پر دریائے ستلج میں شدید سیلاب، کئی علاقے زیرِ آب، ہزاروں افراد متاثر

لاہور / پاکپتن / بہاولنگر:  بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں اچانک پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان کے مختلف اضلاع میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں متعدد حفاظتی بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیرِ آب آ چکی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پاکپتن کی بستی چکر آلوکا اور کنڈ نین سنگھ میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی نے قریبی آبادیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بند باندھنے اور پانی روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

دریائے ستلج سے متاثرہ اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ دیہاتیوں اور ان کے مویشیوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 19 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج کا پانی سرحدی علاقوں میں خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ انسانی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے دریا کے کنارے رہنے والے افراد کو فوری انخلا کی ہدایت کی ہے۔

اس کے علاوہ تحصیل منچن آباد (ضلع بہاولنگر) کے دیہی علاقوں وزیرا گدوکا اور میکلوڈ گنج میں سیلابی ریلے نے کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دھان، تل اور چارہ جات کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

چناب، سندھ اور دیگر دریاؤں میں بھی خطرہ:
پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں دریائے چناب میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے کیونکہ دریائے توی سے آنے والا ریلا چناب میں شامل ہو رہا ہے، جو گجرات، منڈی بہاؤالدین، چنیوٹ اور جھنگ کے علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ہیڈ مرالہ: آمد 1 لاکھ 27 ہزار، اخراج 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک
خانکی: آمد 1 لاکھ 28 ہزار، اخراج 1 لاکھ 21 ہزار کیوسک
گنڈا سنگھ والا (ستلج): اونچے درجے کا سیلاب، پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 33 ہزار کیوسک
ہیڈ سلیمانکی: درمیانے درجے کا سیلاب، آمد 94 ہزار، اخراج 87 ہزار کیوسک
دریائے سندھ (کالاباغ، چشمہ): نچلے درجے کا سیلاب
راوی (جسڑ، شاہدرہ، بلوکی، سدھنائی): پانی کا بہاؤ نچلے درجے کا
نالہ بئیں اور بسنتر: نچلی سطح کی سیلابی کیفیت
ڈیرہ غازی خان کے رودکوہی علاقوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

کئی مقامات پر لوگ انخلا کے باوجود واپس اپنے گھروں کے قریب ہی ٹھرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متبادل رہائش یا امداد نہ ہونے کے باعث ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں۔

 حکومتی ادارے الرٹ پر ہیں، لیکن شدید بارشوں اور سیلابی پانی کی مسلسل آمد کے باعث صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں۔

ٹیگز: