کراچی/مظفر آباد:متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابی ماحول میں بعض عناصر کی جانب سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ ایم کیو ایم نے بھی اس بار وادی میں اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اتارے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے ماضی کے سیاسی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر ن لیگ اپوزیشن میں بھی ہوئی تو ہم ان کا ساتھ نبھائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اس وقت ن لیگ کو مکمل سپورٹ کیا جائے تو مشترکہ امیدواروں کی کامیابی کی راہ ہموار ہو جائے گی، اور کشمیر میں آئندہ حکومت سازی کے تمام فیصلے باہمی مشاورت اور مل کر کیے جائیں گے۔ انہوں نے پرامید لہجے میں کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ن لیگ ہی فتح یاب ہوگی اور "ن لیگ جیتے گی تو ایم کیو ایم جیتے گی"۔
اس کے علاوہ وفاقی سیاست اور مطالبات پر روشنی ڈالتے ہوئے فاروق ستار نے شکوہ کیا کہ ان کا پیش کردہ آئینی ترمیمی بل ستائیسویں (27th) ترمیم میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم کھیئل داس نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایم کیو ایم کے یہ بل اسمبلی کے فلور پر لائے جائیں گے اور ترمیم کے دوران منظور کروائے جائیں گے۔ فاروق ستار نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کو اس کا جائز حق یعنی گورنر شپ واپس ملنی چاہیے، اور اس معاملے پر ن لیگ کے وفد سے بھی واشگاف الفاظ میں بات کی جا چکی ہے۔