Get Alerts

خطے میں جنگی جنون؟ بھارت کے اسرائیلی ماڈل اپنانے کی کوششیں بے نقاب

خطے میں جنگی جنون؟ بھارت کے اسرائیلی ماڈل اپنانے کی کوششیں بے نقاب

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے اربوں ڈالر کے مہلک ہتھیاروں کی خریداری اور اسرائیل جیسی جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی تیاری نے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت اسرائیل کی اس حکمت عملی کو بطور ماڈل دیکھ رہی ہے جس کے تحت اسرائیل نے حال ہی میں ایران پر براہِ راست حملہ کیا۔ اس تناظر میں بھارت بھی خطے میں "جارحیت کے جواز" کی بنیاد پر کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق بھارت نے پچھلے دس سالوں کے دوران اسرائیل، فرانس، روس اور دیگر مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے مہلک ہتھیار حاصل کیے ہیں۔ ان میں     فرانس سے 9 ارب ڈالر کا معاہدہ برائے 36 رافیل طیارے،    روس سے 5.4 ارب ڈالر کا S-400 میزائل دفاعی نظام،ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ مسلح تیاریاں نہ صرف داخلی سیاست کا دباؤ کم کرنے کی کوشش ہیں بلکہ خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی ہیں۔

جون 2025 میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد بھارتی حکام نے اس اقدام کو "مستقبل کے چیلنجز کا حل" قرار دے کر اس حکمت عملی کو سراہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی مسلسل عسکری تیاریوں نے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

پاکستانی سلامتی اداروں کا مؤقف ہے کہ بھارت کے تمام عزائم سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور ملکی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی بات کی ہے لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ٹیگز: