Get Alerts

قائمہ کمیٹیاں جیل میں سہولتوں یا ضمانتوں کے لیے نہیں بنیں، قانون کے دائرے میں کام کریں گے: اعظم نذیر تارڑ

قائمہ کمیٹیاں جیل میں سہولتوں یا ضمانتوں کے لیے نہیں بنیں، قانون کے دائرے میں کام کریں گے: اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کا مقصد ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، یہ کمیٹیاں نہ تو پولیس تفتیش پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور نہ ہی جیلوں میں اضافی سہولیات یا ضمانتوں کے لیے قائم کی گئی ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ  سٹینڈنگ کمیٹیاں سب کے مشورے سے بنائی گئی ہیں، لیکن ان کے اختیارات کا تعین آئین و قانون کے مطابق ہے۔ اگر کمیٹی کا ایجنڈا سنجیدہ نہ ہو تو اسمبلی سیکرٹریٹ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کمیٹیوں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ مناسب نہیں۔ "قائمہ کمیٹیاں ضمانت کی تاریخیں آگے کروانے  یا  سہولتوں  کے  لیے نہیں۔انہوں نے کہا کہ "ایسی باتیں نہیں کرنی چاہییں جن پر بعد میں معذرت کرنی پڑے۔ اگر وزارتِ انسانی حقوق کے پاس کرپشن کیسز میں سزا معطل کرنے یا جیلر کو ڈائریکٹ کرنے کا اختیار ہوتا تو میں ضرور قدم اٹھاتا، لیکن ہم قانون کے پابند ہیں اور اسی کے مطابق چلیں گے۔"

انہوں نے سابق وزرائے اعظم اور صدور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "کیا مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنا چادر اور چار دیواری کی پامالی نہیں تھی؟ کیا فریال تالپور کو عید سے قبل جیل بھیجنا اسی زمرے میں نہیں آتا؟ نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔"

آخر میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے توقع تھی کہ وہ سنجیدہ تجاویز دے گی، لیکن ماحول کو سنبھالنے کے لیے سب کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

ٹیگز: