Get Alerts

یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، سپین میں 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے

یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، سپین میں 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے

میڈرڈ/لندن:یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جہاں غیر معمولی درجۂ حرارت کے باعث ہلاکتوں اور صحت سے متعلق مسائل میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سپین میں گزشتہ چار روز کے دوران گرمی سے متاثر ہو کر 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں درجۂ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

برطانیہ میں بھی شدید گرمی کے باعث حکام نے بیشتر علاقوں کے لیے جاری ریڈ وارننگ میں توسیع کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔

برطانوی کاؤنٹی سرے میں جون کے مہینے کا 50 سالہ گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، جہاں درجۂ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے قبل جون 1976 میں 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

فرانس میں جاری ہیٹ ویو کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے، جبکہ 80 برس میں پہلی بار درجۂ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ دارالحکومت پیرس میں بھی پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

دوسری جانب اٹلی کی حکومت نے شدید گرمی کے پیش نظر ملک کے 16 شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق یورپ میں گرمی کی موجودہ لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: