Get Alerts

یورپ میں گرمی کی غیر معمولی لہر برقرار، ہیٹ ویو سے 4 ہزار سے زائد افراد دم توڑ گئے

یورپ میں گرمی کی غیر معمولی لہر برقرار، ہیٹ ویو سے 4 ہزار سے زائد افراد دم توڑ گئے

برسلز: یورپ کے متعدد ممالک اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں مسلسل جاری ہیٹ ویو کے باعث ہلاکتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف یورپی ممالک میں گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث 4 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

فرانس میں گزشتہ ہفتے کئی دہائیوں بعد ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نوٹ کیا گیا۔ فرانسیسی وزیر صحت کے مطابق ملک بھر میں شدید گرمی کے باعث 2 ہزار 25 اموات رپورٹ ہوئیں، جس کے بعد حکومت نے عوام کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

اسپین بھی شدید گرمی سے بری طرح متاثر ہوا، جہاں کارلوس ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف جون کے مہینے میں گرمی کی شدت کے باعث ایک ہزار 28 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دوسری جانب نیدرلینڈز میں 22 سے 28 جون کے دوران درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے نتیجے میں 480 اموات رپورٹ کی گئیں، جبکہ بیلجیئم میں 18 سے 29 جون کے دوران ایک ہزار 200 سے زائد افراد گرمی سے متعلق مختلف وجوہات کے باعث انتقال کر گئے۔

ادھر برطانیہ میں بھی غیر معمولی گرمی برقرار ہے اور ماہرین نے ملک کے مختلف حصوں میں تیسری ہیٹ ویو آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس پر محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور شدید گرمی سے بچنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھتا جا رہا ہے، جو یورپ میں صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے، جبکہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں اموات میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ٹیگز: