Get Alerts

غزہ میں اسرائیلی فوج کی مظلوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری

غزہ میں اسرائیلی فوج کی مظلوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری

غزہ: اسرائیلی جارحیت نے ایک اور فلسطینی خاندان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں معروف خاتون ماہر اطفال، ڈاکٹر عالہ النجار کے 9 بچے شہید ہو گئے، جب کہ ان کا شوہر اور ایک بچہ شدید زخمی حالت میں بچ گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق شہید ہونے والے بچوں کی عمریں صرف 7 ماہ سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ معصوم بچوں کی ہنستی کھیلتی زندگیوں کو ایک لمحے میں اجاڑ دیا گیا، اور ایک ماں کے لیے ناقابلِ بیان صدمہ چھوڑ دیا گیا۔

قطری نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں درجنوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اس وحشیانہ جنگ میں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی شدید قلت کے باعث ایک 4 سالہ بچہ، محمد یٰسین، بھوک سے جاں بحق ہو چکا ہے، جب کہ مزید 70 ہزار بچے فاقہ کشی کے خطرے میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں پانچ لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں اور علاقے میں قحط کے آثار دن بدن سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں محدود مقدار میں خوراک، آٹا اور بچوں کی غذائیں داخل ہونے دی ہیں، لیکن اقوام متحدہ نے اسے "سمندر میں قطرہ" قرار دیا ہے۔

ٹیگز: