Get Alerts

پوری دنیا کے لیڈرز ایمانداری پر کم یقین رکھتے ہیں،  پاکستان میں بھی قومی ایشوز پر کھلی اور شفاف بحث و مباحثہ ضروری :پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

پوری دنیا کے لیڈرز ایمانداری پر کم یقین رکھتے ہیں،  پاکستان میں بھی قومی ایشوز پر کھلی اور شفاف بحث و مباحثہ ضروری :پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

کراچی: چیئرمین نئی بات میڈیا گروپ، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے ایک خصوصی تقریب سے خطاب میں پاکستان کے موجودہ سماجی، تعلیمی اور سیاسی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 75 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ترقی کے درست راستے پر نہیں چل سکا اور معیارِ زندگی مسلسل گرتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عبدالرحمان نے کہا کہ ملک میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبے تنزلی کا شکار ہیں اور نوجوان نسل اکثر راتوں رات امیر بننے کے چکر میں رہتی ہے، جس کی وجہ سے محنت اور لگن کا فقدان پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر نوجوانوں کے کردار کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے، لیکن قومی سطح پر کردار سازی کے لیے مناسب رول ماڈل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے لیڈرز ایمانداری پر کم یقین رکھتے ہیں، لیکن پاکستان میں بھی قومی ایشوز پر کھلی اور شفاف بحث و مباحثہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر عبدالرحمان نے مزید کہا کہ کردار سازی کے لیے بہترین رول ماڈل حضرت محمد ﷺ ہیں اور انہوں نے تاکید کی کہ قرآن مجید میں زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

ڈاکٹر عبدالرحمان نے شہری اور تعلیمی حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی کبھی روشنیوں کا شہر تھا، لیکن آج حالات دیکھ کر رنج آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 450 کالجز لاکھوں بچوں کو تعلیم کی روشنی دے رہے ہیں، مگر بہتر حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ نظام اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔

انہوں نے گورننس کے موجودہ ماڈل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شائستہ اور اچھا شخص سامنے آ کر بہتر کام کرے۔ انہوں نے شفافیت کے عالمی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان ٹرانسپیرنسی میں دنیا میں 173 واں نمبر رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالرحمان نے زور دیا کہ قوم کو اپنے رول ماڈل کو درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کے حقیقی راستے کھل سکیں اور نوجوان نسل میں محنت، ایمانداری اور لگن کو فروغ ملے۔

ٹیگز: