واشنگٹن / نیویارک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو خود ہی حل کر لیں گے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ان دونوں ممالک کے درمیان صدیوں سے کشیدگی چلی آ رہی ہے، اور میرا یقین ہے کہ وہ اس معاملے کو کسی نہ کسی طریقے سے سلجھا لیں گے۔"
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب بھارت نے 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد، سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
اس کے ردعمل میں 24 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے واضح اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنا اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے قریب ہیں، اور یہ مسئلہ "شاید ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے۔"
ادھر، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور امریکا اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے کشمیر کے بارے میں فی الحال کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی فریقین سے تحمل اور بردباری کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید کشیدگی سے گریز کیا جائے۔ ان کے ترجمان اسٹیفان دوجارک کے مطابق، اقوام متحدہ اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، تاہم فی الحال دونوں ملکوں کی قیادت سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں کیا گیا۔