اسلام آباد :لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں مون سون کی آٹھویں بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث لاہور کے کئی علاقوں میں کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش ہوئی، جس سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ پتوکی، شیخوپورہ، مریدکے، کامونکی، ڈسکہ اور سمبڑیال سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔
قصور میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے، کئی جگہ کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، جس کی وجہ سے دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور سڑکیں ندی نالوں جیسی منظر پیش کرنے لگیں۔ آزاد کشمیر کے مختلف حصوں میں بھی بادل برسنے کا سلسلہ جاری رہا۔
دوسری جانب، بونیر میں سیلاب کے باعث 13 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جہاں سرچ آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ 10 دنوں میں 296 افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
غذر میں تالی داس کے مقام پر ریلیف آپریشن جاری ہے، اور شاہراہ غذر کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ دائن پل کی بحالی نہ ہونے کے باعث تقریباً 3 ہزار افراد کی بستی شہر سے کٹ گئی ہے، جس کے لیے صوبائی حکومت نے عارضی کشتیوں کے ذریعے مدد فراہم کی ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ وفاق کے تعاون سے متاثرین کے لیے متبادل گاؤں بنائے جائیں گے تاکہ متاثرین کو مستقل رہائش دی جا سکے۔