مفادات کے قیدی

مفادات کے قیدی

مہنگائی کے طوفانوں کی شہ سرخیاں اب معمولات کا حصہ بن چکیں۔ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آسان ہو گئیں۔ عوام کے دل بہلاوے اور تشفی کو وزیراعظم سادگی کے وعدے یا دعوے کر رہے تھے۔ اس دوران سینیٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بہت سے بھانڈے پھوڑ دیے۔ ملک کو معاشی ابتری کی دلدل سے نکالنے کے لیے ججوں، جرنیلوں اور قانون سازوں کی مراعات ختم کرنے کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے ایک دستاویز لہراتے ہوئے اسے پڑھنا شروع کیا۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے اور سر دھنئے۔ کوشش کریں کسی طرح جج بن جائیں اور آپ کے بھی سارے دلدر دور ہو جائیں (اور قوم کے شروع ہو جائیں!) ریٹائرڈ جج ماہانہ 10 لاکھ پینشن پاتے ہیں۔ دو ہزار مفت بجلی کے یونٹس انہیں ملتے ہیں ماہانہ۔ (جس سے ایک چھوٹی فیکٹری چل سکتی ہے۔) یادش بخیر! ایک مرتبہ ایسے ہی ایک گھر میں کمرے سے نکلتے ہوئے خاتونِ خانہ کو متوجہ کیا کہ ایئر کنڈیشنز بند کردیں۔ محترمہ نے فرمایا، ہماری بجلی مفت ہے۔ انہیں یاد دہانی کروانی پڑی کہ آپ کے لیے مفت ہے، اس بل کی ادائی عوام (یعنی ہماری جیب) سے ہوگی۔ اسی پر بس نہیں 300لٹر مفت پٹرول ماہانہ ہم انہیں فراہم کرتے ہیں۔ ریٹائر ہوکر یہ گھر آرام فرمائیں یا انہیں بگھیاں فراہم کر دیں۔ (شاہانہ بگھی کا کروفر بھی بہتیرا ہوتا ہے مگر پٹرول کی بچت تو ہوگی۔) فون کی بھی تین ہزار ماہانہ کی سہولت مفت میسر ہے۔ ادھر کابینہ کے ممبران کے زیر استعمال 60 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں ہیں۔ ان سے اوپر کے حکام کے پاس جو گاڑیاں ہیں ان میں تیل کی کھپت ٹرک کے برابر ہے۔ سینیٹر نے ایوان کو بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ سرکاری گاڑیاں مفت پیٹرول سے بھری جاتی ہیں۔ ایسے میں دنیا کی سب سے بڑی کابینہ 87 وزراء پر مشتمل کشکول بردار پاکستان کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو عوام سے کہتا ہے: میں نے کہا کہ شہر میں پانی کا قحط ہے، اس نے کہا کہ پیپسی کولا پیا کرو! زبانِ خلق کی سنئے۔ عوام ایڑیاں اٹھا اٹھاکر افغانستان میں پیدل چلتے، عوام کی خدمت کرتے وزراء کو دیکھ کر ان کی تمنا کرنے لگ گئے ہیں۔ اگر یہ نقارہئ خدا بن گیا تو حال کیا ہوگا؟ اشرف غنی کابینہ کی طرح ہمارے والے بیرون ملک خدانخواستہ ریستورانوں میں بیرا گیری کریں گے یا پیزا ڈیلیوری بوائے بنیں گے؟ اس طرح تو ہوتا ہے! یا پھر ابصار عالم کے معاصر روزنامے میں کالم میں ہمارے شاہوں کی سواری باد بہاری کی بے چارگی کا عالم بھی کم عبرت ناک نہیں۔ ”نقلِ کفر، کفر نہ باشد“۔ لکھتے ہیں: ’پچھلے دنوں جنرل باجوہ اور ان کے صاحبزادے کو دبئی میں مٹر گشت کرتے ہوئے سڑک کراس کرنے کے لیے ریڈ سگنل پر بغیر حفاظتی کمانڈوز کے انتظار کرتے دیکھ کر میرا کمزور دل تو ٹوٹ ہی گیا۔‘ پھر وہ محض کچھ ہی ہفتوں پہلے تک گھنٹوں پہلے سے ان کی آمد کے لیے شاہراہیں بند ہونے کے مناظر کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی پوری کہانی ان کے بیٹے کی نتھی ہے کالم میں۔ وہ غلطی سے جنرل کی گزرگاہ پر کھڑے ہوکر فون کرنے کا جرم کر بیٹھا اور پھر وی آئی پی موومنٹ میں دخل در معقولات پر اسے جوتوں ٹھڈوں کی نوک پر لیا گیا اور وہ نفسیاتی مریض بن گیا اس جرم کے ہاتھوں! (پاکستان 24: 11فروری، 2023ء)
 کمال تو یہ ہے کہ یہی ہمارے بہت بڑے بڑے مقتدرین ہیں جن کی آئی ایم ایف سے ملی بھگت کو قوم بھگتتی ہے۔ ہماری چندھی آنکھوں میں 
دھول جھونکتے ان کے بیانات ملاحظہ ہوں۔ مثلاً پچھلے دنوں چیئرمین فارن ایکس چینج نے ڈالر ریٹ بڑھنے کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہرا دیا کہ ’وہ ہماری معیشت ختم اور ہمارے ریزرو کو خالی کر رہا ہے!‘ سبحان اللہ! کیا منطق ہے۔ ان کی کرنسی مضبوط ہے۔ صاف ستھری کرپشن سے پاک تجارت کو حلال کی بابرکت روزی پر پرسکون بیٹھے ہیں باوجودیکہ مغرب ان کے اربوں ڈالر پر قابض ہے۔ ننھا سا ملک ایٹمی پاکستان کے ریزرو کھا رہا ہے؟ یہ تو ہاتھی والی کہانی ہوئی۔ ہاتھی نے نہر کنارے مینڈک کو آواز دی کہ ذرا پانی سے نکلو میں دیکھوں تم نے میرا پاجامہ تو نہیں پہن رکھا؟ اب رقیبِ روسیاہ آئی ایم ایف فریبی خوشامد کرکے ہمارے مسکین عوام سے ہمدردی جتا رہا ہے۔ کہتا ہے: ’غریب عوام کو فائدہ دینے کے لیے سبسڈیز کا منصفانہ نظام ہونا چاہیے (جو خود آئی ایم ایف نے ختم کرائیں!) ایک تہائی لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ دولت کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے۔‘ (فی الحال تو یہ عالمی منافقانہ ملی بھگت کے سوا کچھ نہیں ہماری چٹنی بنانے کو۔)
بیس سالہ امریکی دوستی بلکہ غلامی نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ دنیا پرستی، حبِ جاہ ومال نے ہمارا کردار اقدار اطوار تباہ کر ڈالے۔ رگ وپے میں ڈالر پرستی نے حرام کی چراگاہوں کا عادی بنا دیا۔ مومن کی تو دنیا ہی جدا ہے! کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور۔ صاحبِ ایمان کے ساتھ ربط ضبط رکھنے والا تو گھوڑا بھی صاحبِ کردار ہوتا ہے! مثال دیکھیے۔ ایک پارسا پر رشوت کا الزام آ گیا۔ اس نے تفتیشی افسر سے کہا: باہر میرا گھوڑا کھڑا ہے اسے چوری کا چارہ لاکر ڈال دو۔ اگر وہ چوری کا چارہ (حرام) کھا لے تو مجھ پر الزام سچا ہوگا! آزمایا گیا اور گھوڑے نے چوری کے چارے سے منہ پھیر لیا!مالک الزام سے بری کردیا گیا! ان کی گاڑیاں اس گھوڑے جیسی سچی ہوتیں تو قومی خزانے (مال یتیم کے برابر حرمت!) کے پیٹرول پر چل نہ پاتیں، کھڑی کھڑی ہچکیاں لیتی رہتیں!
اکیسویں صدی کا آغاز جس دجل فریب بھری نامراد دہشت گردی کی جنگ سے ہوا، اس کے حقائق ہمہ گیر کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اب مسلسل امریکا میں آتشیں اسلحے سے اموات نے انہیں لرزا کر رکھ دیا ہے۔ روزانہ 110 اموات گن شاٹ (اندھا دھند فائرنگ جابجا) سے ہو رہی ہیں۔ یعنی سالانہ 40150 اموات تو خود امریکی اپنوں کی شوقیہ گولیوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ نائن الیون میں مارے جانے والے 3ہزار سے کہیں زیادہ تو سالانہ خود اپنوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان عراق شام یمن صومالیہ مالی شمالی افریقہ میں جنگوں کا قہر ان تین ہزار کی آڑ میں مچا ڈالا؟ جھوٹ فریب کی اس جنگ نے امنِ عالم تباہ کردیا۔ ملکوں، معیشتوں کو اجاڑ دیا۔ ہماری آبادی کم کرنے کو اب خاندانی منصوبہ بندی نہیں معاشی منصوبہ بندی جاری ہے۔ ادویہ کی قیمتوں میں 350فیصداضافے سے زائد کی سمری تیار ہے، مریضوں کو کند چھری سے ذبح کرنے کی۔ ٹائیفائڈ، ملیریا، زکام سے احتراز فرمائیے ورنہ جیتے جی بیماری سے بڑھ کر قیمتوں کے ہاتھوں صدمے سے ہی مر جائیں گے۔ 687روپے کا انجکشن 3216روپے میں، کلوروکوائن فاسفیٹ 431 روپے سے بڑھ کر 1323 روپے میں۔ آنکھوں کی دوا 26 روپے کی اب 73 میں پڑے گی۔ پیاز کاٹ کر آنکھیں دھو لیں۔ (بشرطیکہ پیاز سستا ہو۔) دالوں پر مبارکباد آئی کہ اب 25روپے سستی ہو گئیں۔ ساتھ ہی خبر تھی کہ (پکاکر کھائیں گے تو) ایل پی جی 15روپے مہنگی ہوگئی ہے!
مشرف کی کارگزاریوں پر قوم کا حساس طبقہ(اندرون وبیرونِ ملک) قومی اعزاز سے اس کی تدفین اور قومی وسائل کے استعمال پر سخت برہم ہوا۔ کہیں بلند آہنگ اور کہیں مظلوموں کی آہیں اور کراہیں اٹھیں۔ بہ زبان حال کہتا رخصت ہوا…… ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا، نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا! دہلی کی حویلی والا ہو یا آخری مغل تاجدار، چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات! رہے نام اللہ کا۔ امریکی دہشت گردی کی جنگ کے مظالم اور گناہِ جاریہ میں سے شرمناک ترین گناہ 22 کروڑ عوام کے جیتے جی قوم کی لائق ہونہار پاکباز بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا فراعنہ کی قید میں 2094ء تک کی سزا میں مقید ہونا ہے۔ اس کا تذکرہ گورے وکلاء، صحافی، حقوق انسانی کے ذمہ دار آئے دن کرکے ہمیں شرمسار کرنے کی (ناکام) کوشش کرتے ہیں۔ برطانیہ کے ایسے ہی ایک فرد کلائیو اسٹیفورڈ اسمتھ نے اسے امریکی نظامِ انصاف پر دھبا قرار دیا ہے۔ ٹیکساس کی جیل (جو اصلاً بہت بڑی فوجی بیس کا حصہ ہے۔) میں جرمِ بے گناہی پر عافیہ قید ہے۔ تشدد کے ذریعے اس پر جرم تھوپا گیا ہے۔ اسے گولی ماری گئی قید میں۔ منہ پر ٹھڈا مار کر اوپر کے سامنے تمام دانت توڑے گئے۔ اسے مسلسل زیادتی، مارپیٹ، نیند سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جھوٹی جنگ کا کریہہ ترین چہرہ بے گناہ عافیہ کی صورت ہے ہماری ہر حکومت نظریں چراتی رہی ہے۔ مکافاتِ عمل میں ملک ڈبونے کو یہ بھاری جرم کافی ہے۔ مستزاد یہ کہ ہم پھر امریکا کی گود میں بیٹھ کر انگوٹھا چوستے ڈالروں کی فرمائش کر رہے ہیں!
ہر اک ہے یہاں اپنے مفادات کا قیدی
آئے کوئی اور یہ دیوار گرا دے