Get Alerts

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانے: افغان جریدے کا سنسنی خیز انکشاف

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانے: افغان جریدے کا سنسنی خیز انکشاف

کابل/اسلام آباد: افغان اخبار 'ہشت صبح' نے اپنی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے صوبہ غزنی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور خصوصی رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے گئے ہیں. اخبار کی رپورٹ میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ان مبینہ ٹھکانوں کی نوعیت کچھ یوں ہے۔ 
    صوبہ غزنی میں مخصوص گروہوں کے لیے رہائشی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں جہاں عام شہریوں کا داخلہ محدود ہے۔ ان مقامات پر صرف رہائش ہی نہیں بلکہ مذہبی مدارس اور باقاعدہ سیکیورٹی انتظامات بھی قائم کیے گئے ہیں، جو ان کے عسکری ڈھانچے کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ (UN) کی ان سابقہ رپورٹس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے طالبان حکومت کے ساتھ روابط پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔اخبار نے افغان حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے درج ذیل نکات اٹھائے ہیں۔ شدت پسندوں کو مبینہ پناہ گاہیں فراہم کرنے اور دیگر پالیسیوں کے باعث افغانستان سفارتی محاذ پر تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کو شدید معاشی اور انسانی بحران کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں افغان باشندے ہجرت پر مجبور ہیں۔
    علاقائی خطرہ: رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ ٹھکانے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک ٹائم بم ثابت ہو سکتے ہیں۔
"ہشت صبح" کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلسل افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ غزنی جیسے دور افتادہ صوبے میں منظم ٹھکانوں کی موجودگی سرحد پار دہشت گردی کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔

ٹیگز: