Get Alerts

ڈونلڈ ٹرمپ کل مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، بھارت کو خدشہ

ڈونلڈ ٹرمپ کل مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، بھارت کو خدشہ

لندن : برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، بھارت کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا "بورڈ آف پیس" مستقبل میں کشمیر جیسے حساس مسائل پر بات چیت کا آغاز کر سکتا ہے، جس سے بھارت کی سفارت کاری اور عالمی تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے قائم ہونے والے اس بورڈ آف پیس میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت 59 ممالک نے شمولیت اختیار کی ہے۔ ٹرمپ نے بھارت کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔

بھارت کے سابق سفیر اکبر الدین اور رنجیت رائے نے اس بورڈ میں شمولیت کو بھارت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتا ہے اور بھارت کے لیے اس میں شامل ہونا عالمی سطح پر اس کے فیصلوں کی توثیق کے مترادف ہو سکتا ہے۔ رنجیت رائے نے مزید کہا کہ اس بورڈ کا کوئی مدت مقرر نہیں، اور اسے غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خارجہ امور کی ماہر نروپما سبرامنیم نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ بھارت کو بورڈ آف پیس میں شمولیت سے قبل بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی شمولیت عالمی سطح پر کئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بھارت کو جلدبازی میں اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

بھارتی جریدے دی ہندو نے لکھا کہ پاکستان کی شمولیت بھارت کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر ٹرمپ کشمیر کے مسئلے کو اس بورڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کریں۔ بھارت کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے بعد اپنے فوجیوں کی تعیناتی پر اعتراض کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اس بورڈ کو عالمی امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے امریکہ کا عالمی غلبہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: