کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی، حکومت دکانداروں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور دو ماہ کے اندر پلازہ کی بحالی کے بعد دکانیں متاثرین کے حوالے کر دی جائیں گی۔
کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ تاجروں کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت ہر متاثرہ دکاندار کو ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کرے گی، جس کے سود کی ادائیگی حکومت خود کرے گی۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے تعاون سے تاجروں کے ہونے والے مالی نقصان کو پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ دکانداروں کے ساتھ مل کر عمارت کو دوبارہ کھڑا کیا جائے گا اور 60 دن کے اندر کاروبار کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ اس سانحے کے بعد سندھ حکومت نے کراچی کی ہر بلڈنگ کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ واقعے کی حساسیت کے پیشِ نظر دیگر صوبوں میں بھی حفاظتی کمیٹیاں تشکیل پا چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کراچی کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کورنگی کاز وے پل سے شہریوں کی سفری مشکلات میں کمی آئے گی۔ شاہراہِ بھٹو پر کام تیزی سے جاری ہے اور اسے عید تک ہر حال میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔