تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا
سیاہ دھواں، ساتھ انسانی آہ و بقا، باہر نکلنے کے تمام راستے بند، کیسے ہنستے کھیلتے خریداروں کی خوشیوں کو خرید لیا گیا ؟
کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ ایک بار پھر ہمارے شہروں میں حفاظتی انتظامات کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان کا باعث بنا بلکہ اس نے حکومتی اداروں، بلڈنگ انتظامیہ اور مجموعی طور پر ہمارے سماجی رویّوں پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
گُل پلازہ میں آگ اچانک بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجوہات کی مکمل تحقیقات جاری ہے۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارت میں موجود افراد کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ منظر ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو افسردہ کر گیا۔ لیکن عینی شاہدین کا کہنا یہ ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ 24 دروازوں میں سے پلازہ کے صرف دو دروازہ ہی کیوں کھلے تھے ؟ لوگ اندر چیخ رہے تھے بلک رہے تھے اور انتظامیہ دروازے بند کرنے میں محو تھی کیوں ؟
اس سانحے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ ہماری بیشتر تجارتی اور رہائشی عمارتیں بنیادی حفاظتی اصولوں پر پورا نہیں اترتیں۔ فائر ایگزٹ کا نہ ہونا، فائر الارم سسٹم کی عدم موجودگی، ناقص الیکٹرک وائرنگ اور فائر فائٹنگ آلات کی کمی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کو جنم دے سکتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان خامیوں کی نشاندہی کے باوجود اکثر انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
ریسکیو اداروں اور فائر بریگیڈ نے اپنی استطاعت کے مطابق امدادی کارروائیاں انجام دیں، مگر تنگ راستے، پانی کی کمی اور عمارت کی ساخت نے امدادی کاموں کو مشکل بنا دیا۔ اور ایک فائر فائٹر نے تو انکشاف کیا ہے کہ جو آگ شارٹ سرکٹ یا کوئی اور وجوہات کے باعث لگتی ہے تو بجھ جاتی ہے، باقی آپ خود سمجھ دار ہیں، اس طرح جو آگ لگتی ہے پھر وہ جل کر ہی بجھتی ہے، ہم جب یہاں آئے تو ہر دکان میں آگ تھی۔ اس انکشاف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ گُل پلازہ آتشزدگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کو کبھی ثانوی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عمارتوں کے لیے حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروائے، باقاعدہ انسپیکشن کا نظام قائم کرے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دے۔ ساتھ ہی، عمارت مالکان اور تاجروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو اضافی خرچ نہیں بلکہ ایک لازمی ضرورت سمجھیں۔ آخر میں، یہ سانحہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو ایسے واقعات بار بار دہرائے جاتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتماعی شعور بیدار کیا جائے اور ایک محفوظ، ذمہ دار اور انسانی جانوں کی قدر کرنے والا معاشرہ تشکیل دیا جائے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔