اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج 26 جون کو انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد معاشرے میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنا اور اس خطرناک لعنت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔
یہ دن ہر سال منشیات کے استعمال، اس کی غیر قانونی تجارت، اور نوجوانوں کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں نشے کی لت میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات میں ذہنی دباؤ، غربت یا دولت کا بے جا استعمال، مایوسی، اور غلط صحبت شامل ہیں۔
منشیات کے استعمال میں اضافے کے باعث دنیا بھر میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ صورتحال انسانی معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
پاکستان میں انسدادِ منشیات فورس (ANF)، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر سال کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کرتے ہیں، منشیات فروشوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے معاشرتی سطح پر آگاہی، تعلیم، اور نوجوانوں کی رہنمائی ضروری ہے۔
انسدادِ منشیات کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک صحت مند اور باوقار معاشرہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم منشیات جیسے عذاب کو جڑ سے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔