واشنگٹن/تہران : امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو "شدید نقصان" پہنچا ہے، جس کے باعث ایرانی جوہری پروگرام کو "کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے"۔
سی آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جدید انٹیلیجنس نظام اور خفیہ ذرائع کے مطابق نطنز، فردو اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے، جن کی دوبارہ تعمیر میں "کئی سال" لگ سکتے ہیں۔ ریٹکلف کا کہنا ہے کہ امریکی حملے نہایت درست اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔
قبل ازیں، امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک ابتدائی لیک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف "چند ماہ" پیچھے گیا ہے، جس پر سی آئی اے نے اختلاف کرتے ہوئے تفصیلی انٹیلیجنس رپورٹ جاری کی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے قطری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو "بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا"، جس کے نتیجے میں انہیں "شدید نقصان" پہنچا ہے۔
امریکی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کو تینوں مرکزی تنصیبات کو ازسرِنو تعمیر کرنا پڑے گا، جس میں "کئی سال لگ سکتے ہیں"۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی میڈیا نے صدر ٹرمپ اور فوج کی کامیابیوں کو چھپانے کے لیے خفیہ رپورٹس کے صرف منتخب حصے شائع کیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے سی این این، نیویارک ٹائمز اور ایم ایس این بی سی کو "کچرا" قرار دیا اور کہا کہ یہ ادارے امریکی پائلٹوں اور فوجیوں کی کامیابی کو نظرانداز کر رہے ہیں۔