لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ویمن کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم کو نیا کنٹریکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق محمد وسیم کو 2024 میں ویمن ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا، لیکن ان کی کوچنگ میں ٹیم کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر رہی۔ بورڈ کی مکمل حمایت کے باوجود محمد وسیم نے نتائج دینے میں ناکامی کا سامنا کیا، اور ویمن ورلڈ کپ میں ٹیم ایک بھی میچ نہیں جیت سکی۔ اس کے علاوہ، کھلاڑیوں نے ان کی کوچنگ کے حوالے سے شکایات بھی درج کیں، جن میں ان کا کھلاڑیوں کے ساتھ کم انٹریکشن اور بیٹنگ کے شعبے میں کمزوریوں کا ذکر کیا گیا۔
محمد وسیم خود ایک بیٹر تھے، مگر ان کی کوچنگ کے دوران ویمن ٹیم کی بیٹنگ انتہائی کمزور ہو گئی۔ ان کے رویے کو بھی اکھڑ مزاج قرار دیا گیا، اور وہ نہ صرف بولنگ اور بیٹنگ کوچ کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا شکار رہے، بلکہ کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ان کا تال میل ٹھیک نہیں رہا۔
محمد وسیم نے ٹیم کی سلیکشن میں بھی خود کو شامل رکھا اور سپورٹ اسٹاف کی تقرریاں اپنی مرضی سے کیں، مگر پھر بھی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی۔ ویمن ٹیم کی بولنگ اور فیلڈنگ کے شعبے میں بھی مسلسل تنزلی دیکھی گئی، اور ورلڈ کپ کے دوران کئی کیچز بھی ڈراپ ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد وسیم کی جگہ اگلے ہفتے نئے ہیڈ کوچ کی تقرری کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ سری لنکا اور انڈیا میں جاری ویمن کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ویمن ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، جہاں وہ سات میچز میں سے ایک بھی نہیں جیت سکی۔ اس دوران چار میچز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تین میچز بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔