لاہور : صوبہ پنجاب میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث قومی اور ضلعی سطح کی 200 سے زائد سڑکیں متاثر ہو چکی ہیں، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ خاص طور پر موٹر وے ایم فائیو کے 13 مقامات پر نقصان پہنچا ہے جبکہ مزید 4 سے 5 مقامات پر بھی خطرہ موجود ہے، جس کے باعث موٹر وے ایم فائیو 15ویں روز بھی بند ہے۔
موٹر وے پولیس کے ترجمان عمران شاہ نے بتایا کہ ملتان سے سکھر تک کے سفر کے لیے متبادل راستے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مسافروں کو شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ پر جا کر اوچ شریف انٹرچینج کے ذریعے دوبارہ موٹر وے ایم فائیو پر شامل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد اور نارووال میں ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ ہوئی ہے، جبکہ دریائے ستلج، بیاس اور راوی میں 40 سالہ ریکارڈ سیلاب نے صوبے کے 27 اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد بحالی کے لیے سروے کا آغاز کر دیا ہے، مگر سڑکوں اور پلوں کی مرمت ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ جلالپور پیروالہ سے جھانگڑال تک 22 کلومیٹر کا حصہ خاص طور پر شدید متاثر ہوا ہے، جہاں موٹر وے کے نیچے موجود 73 گزرگاہوں میں سے 15 تباہ ہو چکی ہیں۔ مرمت کے لیے پانی کی نکاسی ضروری ہے کیونکہ دونوں طرف پانی کھڑا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریائے ستلج کا پانی دریائے چناب میں شامل ہونے میں ایک ہفتہ مزید لگے گا، جس کے بعد مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی۔ متعدد سڑکیں اور پل جیسے جلالپور لودھراں روڈ، گڑھ مہاراجہ شورکوٹ روڈ، سیت پور اور علی پور کے پل بھی متاثر ہوئے ہیں، جہاں عارضی لوہے کے پل لگا کر امدادی کام جاری ہیں۔
عرفان کاٹھیا نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان جھنگ اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ہوا ہے، جبکہ سیالکوٹ اور گجرات میں اربن فلڈنگ سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کا کام بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔
جنوبی پنجاب میں دریائے ستلج اور چناب کے کنارے اب بھی سیکڑوں کلومیٹر علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہاں عارضی راستوں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ اگرچہ دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، مگر صورتحال معمول پر آنے میں مزید کچھ دن لگیں گے۔