نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آج اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر پر عرب اور مسلم ممالک نے اجتماعی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جیسے ہی نیتن یاہو تقریر کے لیے پوڈیم پر آئیں گے، مسلم اور عرب ممالک کے مندوبین اجلاس کے ہال سے واک آؤٹ کر جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بائیکاٹ نیتن یاہو کی جانب سے "گریٹر اسرائیل" منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جسے مسلم دنیا نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عرب ممالک کے علاقائی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آج کے سیشنز میں کل 25 عالمی رہنما خطاب کریں گے، جن میں پہلے سیشن کے دوران 15 جبکہ دوسرے سیشن میں 10 رہنما اپنی تقاریر پیش کریں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتن یاہو کے فوراً بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف خطاب کریں گے، اور اس موقع پر تمام مسلم و عرب نمائندے واپس اسمبلی ہال میں آئیں گے تاکہ وزیراعظم پاکستان کی تقریر سنی جا سکے۔
اس کے بعد چین کے وزیراعظم لی چیانگ کی تقریر ہوگی، جسے سننے کے لیے بھی بڑی تعداد میں مسلم اور عرب رہنما موجود رہیں گے۔
آج ہی کے سیشن میں بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی خطاب کریں گے، جن کی تقریر پر بھی جنوبی ایشیائی ممالک کی خصوصی توجہ متوقع ہے۔